تائیوان کی اپوزیشن رہنما کا چین کا دورہ، بیجنگ کے “دوبارہ اتحاد” دباؤ کے دوران سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ

Taiwan opposition leader visits China, diplomatic activity increases amid Beijing’s “reunification” pressure

تائیوان کی اپوزیشن جماعت Kuomintang (KMT) کی چیئر وومن Cheng Li-wen چین کے دورے پر روانہ ہو گئی ہیں، جسے وہ “امن مشن” قرار دے رہی ہیں، جبکہ اس دورے کا وقت تائیوان اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب بیجنگ تائیوان پر “دوبارہ اتحاد” کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے اور خطے میں فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تائیوان کو چین اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان اپنی خودمختاری برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔

چینگ لی ون کے اس دورے کے دوران بیجنگ میں چینی صدر Xi Jinping سے ممکنہ ملاقات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم چین کی جانب سے ابھی تک اس ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یہ ایک دہائی میں KMT رہنما کا چین کا پہلا دورہ قرار دیا جا رہا ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان تعلقات میں ایک اہم سفارتی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تائیوان کی اپوزیشن اور حکمران جماعت ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (DPP) کے درمیان اس دورے پر سیاسی اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ KMT نے اپنے بیانیے میں امن اور استحکام پر زور دیا ہے، جبکہ DPP نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دورہ چین کی پالیسیوں کو تقویت دے سکتا ہے اور تائیوان کی دفاعی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔

تائیوان کی چین پالیسی بنانے والی مین لینڈ افیئرز کونسل نے چینگ لی ون پر زور دیا ہے کہ وہ بیجنگ سے مطالبہ کریں کہ وہ فوجی دباؤ کم کرے اور تائیوان کے عوام کے اپنے مستقبل کے انتخاب کے حق کا احترام کرے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے