ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی نے ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کے مخالفین کی مدد کرنے والے افراد کے مقدمات کی سماعت کو تیز کیا جائے اور ان کے خلاف جلد از جلد سخت فیصلے سنائے جائیں، جن میں سزائے موت یا جائیداد کی ضبطی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ایرانی عدلیہ کی جانب سے جاری اس مؤقف کو ملک میں جاری سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ایسے اقدامات کا مقصد ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے جو مبینہ طور پر بیرونی دشمنوں کے ساتھ مل کر ریاستی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہوں نے مخالفین کی مدد کی، حساس ویڈیوز غیر ملکی چینلز کے ساتھ شیئر کیں یا حملوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے اور ان “منصوبوں” کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں جنہیں تہران اپنے خلاف دشمن قوتوں کی سازش قرار دیتا ہے۔ اس سلسلے میں سکیورٹی ادارے ایسے عناصر کی نشاندہی اور گرفتاری کے عمل کو مزید تیز کر رہے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلانے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت مسلسل یہ مؤقف دہرا رہی ہے کہ مغربی اور بعض علاقائی ممالک ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ سخت عدالتی اور سکیورٹی اقدامات کو انہی چیلنجز کے تناظر میں ایک دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
