ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ توثیق کر دی ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ جنگ بندی معاہدہ نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کی منظوری سے طے پایا۔ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران نے اس پیش رفت کو “بڑی فتح” قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی دس نکات پر مشتمل تجویز پر اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے حتمی تفصیلات طے کرنے کی غرض سے Islamabad میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت ہوگی۔
ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے بھی تصدیق کی کہ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران پر حملے بند ہو گئے تو ایران بھی جوابی کارروائیاں روک دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی فوج کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے Strait of Hormuz سے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ بحری ٹرانزٹ ممکن بنایا جائے گا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر Donald Trump بھی پاکستان کی تجویز پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ نے ایران کی کئی اہم شرائط کو تسلیم کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا باضابطہ آغاز 10 اپریل سے متوقع ہے، اور اگر دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت ہوتی ہے تو اس جنگ بندی کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں نے اس پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک بڑے علاقائی تصادم کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا ہے۔
