برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ 30 سے زائد ممالک کے عسکری حکام نے ایک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
یہ اجلاس برطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہوا اور اس کا مقصد سفارتی سطح پر طے پانے والے اتفاقِ رائے کو عملی فوجی منصوبہ بندی میں تبدیل کرنا بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی برطانیہ کی صدارت میں تقریباً 40 ممالک کا ایک سفارتی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔
برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق اجلاس میں ان ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا جن کے ذریعے کسی بھی جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو محفوظ اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایک بین الاقوامی اتحاد کے ذریعے اس اسٹریٹجک گزرگاہ کو مستحکم اور کھلا رکھنے کے لیے عملی حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں جس کا مقصد علاقائی استحکام کو فروغ دینا اور عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اس حوالے سے آئندہ بھی مزید منصوبہ بندی اجلاس متوقع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برطانیہ اور اس کے شراکت دار ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
برطانوی وزیرِ خارجہ کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی اور سیاسی اقدامات سمیت پابندیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
