ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق United States نے Qatar سمیت مختلف غیر ملکی بینکوں میں موجود ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو اسلام آباد میں جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر بات آگے بڑھ رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب Iran اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات زیر بحث ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان اثاثوں کی بحالی کو آبنائے ہرمز سے محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری گزرگاہ کی ضمانت سے مشروط کیا گیا ہے، جو مذاکرات کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔
اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد توانائی کی عالمی ترسیل اور بحری تجارت کو مستحکم بنانا ہے۔
