بنیادی نکات پر اختلاف برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، ایران

Iran calls for important regional meeting next week for peace and stability in Afghanistan

اسلام آباد میں ہونے والے ایران-امریکا مذاکرات کے بعدایران دفتر خارجہ کے ترجمان  Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم معاملات پر اتفاق رائے ہوا، تاہم چند بنیادی نکات پر اختلاف برقرار رہنے کے باعث کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سفارتی عمل ایک مسلسل مرحلہ ہوتا ہے اور ایک ہی نشست میں مکمل ڈیل کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریق کچھ معاملات پر ہم آہنگی تک پہنچ گئے تھے، جبکہ دیگر نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکراتی دور گزشتہ ایک سال میں سب سے طویل رہا، جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس دوران حساس اور کلیدی موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی گئی، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کا جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ ایران مستقبل میں بھی پاکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

ایرانی ترجمان نے مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کی حکومت، عسکری قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا، جس نے پیچیدہ تنازعات کے حل کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے