برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کو ممبئی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا، جہاں ہزاروں مداحوں، اہلِ خانہ اور معروف شخصیات نے شرکت کر کے انہیں الوداع کہا۔
آخری رسومات شیواجی پارک شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں، جہاں ان کے صاحبزادے آنند بھوسلے نے تمام مذہبی رسومات انجام دیں۔ اس موقع پر ان کے تابوت کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا جبکہ ممبئی پولیس کی جانب سے گن سلوٹ پیش کر کے سرکاری اعزاز دیا گیا۔
جنازے کے جلوس کے دوران مداحوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود رہی، جنہوں نے اپنی محبوب گلوکارہ کو پھول نچھاور کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آشا بھوسلے کی وفات پر بھارت بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے، جن میں انہیں نہ صرف عظیم فنکارہ بلکہ ایک شفیق اور مہربان انسان قرار دیا گیا۔
92 برس کی عمر میں انتقال کرنے والی آشا بھوسلے نے دہائیوں پر محیط کیریئر میں ہزاروں گانے گا کر موسیقی کی دنیا میں ایک لازوال مقام حاصل کیا۔ ان کی آواز نے مختلف زبانوں، انداز اور نسلوں کو جوڑا اور وہ بھارتی فلمی موسیقی کی ایک ناقابلِ فراموش شخصیت بن گئیں۔
آخری رسومات میں متعدد نامور شخصیات شریک ہوئیں، جن میں عامر خان، وکی کوشل، وویک اوبرائے، پدمنی کولہاپوری، جیکی شروف، شیریا گھوشال اور شان شامل تھے۔
سیاسی قیادت بھی اس موقع پر موجود رہی، جن میں دیویندر فرنویس، ایکناتھ شنڈے، ادھو ٹھاکرے، رشمی ٹھاکرے اور آدیتہ ٹھاکرے شامل تھے۔
موسیقی کی دنیا سے وابستہ گلوکاروں اور فنکاروں نے مختلف انداز میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ ان کی یاد میں خصوصی پروگرامز اور نغماتی خراج بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔ آشا بھوسلے کی وفات سے موسیقی کی دنیا کا ایک سنہرا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔
