ایران پاکستان سرحدیں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی، نئی گزرگاہ قائم ہوگی

ایران اور پاکستان نے سرحدی تجارت اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا ہے کہ موجودہ سرحدی گزرگاہیں 24 گھنٹے فعال رہیں گی۔انہوں نے کوہک کے مقام پر نئی سرحدی گزرگاہ کھولنے کا بھی اعلان کیا۔

اسکندر مومنی نے تہران میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعاون مزید بڑھانے پر بھی زور دیا۔

مومنی نے ایران اور پاکستان کے تعلقات کو اسٹریٹجک اور گہرا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہیں۔ان کے مطابق ایران اور پاکستان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے ہدف پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانا قلیل اور درمیانی مدت کا ہدف ہے۔مومنی کے مطابق اس مقصد کے لیے بعض معاہدوں پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

مومنی نے بتایا کہ موجودہ سرحدی گزرگاہوں کو 24 گھنٹے فعال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوہک کے مقام پر ایک نئی گزرگاہ بھی کھولی جائے گی۔دونوں ممالک کے درمیان ریلوے رابطے کو بھی بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔

پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔نقوی حالیہ عرصے میں متعدد مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔پاکستانی حکام کے مطابق ان دوروں میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی امور پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔نقوی کے حالیہ دوروں میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے