ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی امن کے قیام کی ذمہ داری پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اردوان نے سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیا۔ اسرائیل پر غزہ منصوبے میں رکاوٹ کا الزاماردوان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
ترکی سمیت آٹھ ممالک نے بھی رواں ماہ اسرائیل سے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ممالک میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ترک صدر نے غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے اور تعمیر نو کے لیے عالمی سطح پر مزید اقدامات پر زور دیا۔
اردوان نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔انہوں نے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق مشرقی یروشلم اس ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔انہوں نے ان ممالک پر بھی زور دیا جو فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کریں۔ترک صدر نے غزہ کی تعمیر نو جلد شروع کرنے اور اسرائیل پر مزید بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔
اردوان نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی ملکیت اور اجتماعی دفاع کے اصولوں پر قائم ہے۔یہ معاہدہ اگست 2026 میں مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔ ترکیہ کے مطابق اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
اردوان نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ترک صدر پہلے بھی آبنائے ہرمز اور خلیج کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے علاقائی مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کو اہم قرار دیا ہے۔
اردوان نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کو ناکام نہیں بنایا جاسکتا۔انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ ترکیہ نے غزہ کی تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
