چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے تعلقات پر اہم مؤقف پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو حریف نہیں ہونا چاہیے۔شی جن پنگ کے مطابق چین اور امریکا کو شراکت دار بننا چاہیے۔انہوں نے یہ بات امریکا پہنچنے کے بعد تحریری خطاب میں کہی۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا دونوں عظیم ممالک ہیں۔انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کو بھی عظیم قرار دیا۔ان کے مطابق دونوں عوام کے درمیان دوستانہ روابط طویل عرصے سے قائم ہیں۔دونوں ممالک کے مفادات بھی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان تعاون دنیا کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
چینی صدر نے چین کی ترقی اور امریکا کی ترقی کو باہم جوڑنے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ چین کی عظیم نشاۃ ثانیہ اور ’’امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا‘‘ ساتھ چل سکتے ہیں۔ان کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کی تکمیل بھی کرسکتے ہیں۔شی جن پنگ نے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان درست راستہ تلاش کرنے پر اعتماد ظاہر کیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ رواں سال دونوں ممالک کے لیے اہم ہے۔انہوں نے مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے کا بھی ذکر کیا۔ان کے مطابق اس دورے میں دونوں رہنماؤں نے اہم اتفاق کیا تھا۔دونوں نے تعمیری اور مستحکم تعلقات بنانے پر اتفاق کیا تھا۔شی جن پنگ نے کہا کہ اس اتفاق نے مستقبل کے تعلقات کے لیے رہنمائی فراہم کی۔
چینی صدر نے دونوں ممالک کو ایک سمت میں آگے بڑھنے پر زور دیا۔انہوں نے تعاون کو تعلقات کی بنیاد بنانے کی بات کی۔ساتھ ہی انہوں نے مسابقت کو اعتدال میں رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے اختلافات کو قابلِ انتظام رکھنے کی ضرورت بھی بیان کی۔شی جن پنگ نے امن کے وعدوں کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
