اقوام متحدہ کے حکام اور رکن ممالک نے ترقی کے حق کے لیے نئی اور مؤثر کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔یہ مطالبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے دوران سامنے آیا۔ نیویارک میں ترقی کے حق سے متعلق اعلامیے کی منظوری کی 40ویں سالگرہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔اجلاس میں عالمی ترقی کی صورتحال اور موجودہ چیلنجز پر غور کیا گیا۔ مقررین نے ترقی کے عمل میں شمولیت، مساوات اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔
جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں انسانی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، یہ پیش رفت تمام خطوں میں یکساں نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ ترقی صرف معاشی نمو کا نام نہیں۔ یہ ایک جامع اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی عمل ہے۔خلیل الرحمٰن کے مطابق لوگوں کو ترقی کے عمل میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ترقی کے ثمرات کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 4 دسمبر 1986 کو ترقی کے حق سے متعلق اعلامیہ منظور کیا تھا۔اعلامیے میں ترقی کے حق کو ناقابل تنسیخ انسانی حق قرار دیا گیا۔ اس کے تحت ہر فرد اور تمام اقوام کو ترقی میں حصہ لینے اور کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔اعلامیہ اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی ترقی کے ثمرات سے استفادے کے حق کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے کہا کہ ترقی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی تعاون کو ایک ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم، ترقی کے وعدے کو اب نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔گوتریش کے مطابق بڑھتی عدم مساوات اور قرضوں کا بوجھ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ تنازعات اور معاشی عدم استحکام بھی کئی ممالک کی ترقی کو متاثر کر رہے ہیں۔
گوتریش نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔انہوں نے نئی ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کی اہمیت پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجیز زندگیوں کو بہتر بنانے کی بڑی صلاحیت رکھتی ہیں۔تاہم، ان کے فوائد سب تک یکساں پہنچنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر، ڈیجیٹل تقسیم اور محرومی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے تناظر میں شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں تمام ممالک کی مؤثر شرکت ضروری ہے۔
