پوپ لیو نے کیتھولک چرچ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور ماضی کے گہرے زخموں کو مندمل کرنے کیلئے اقدامات کرے۔انہوں نے یہ بات فرانس میں پادریوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار افراد سے ملاقات سے چند گھنٹے قبل کہی۔ پوپ لیو نے لورڈز میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد سے خطاب کیا۔
پوپ لیو نے کہا کہ چرچ میں اپنے ماضی کا سامنا کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ انہوں نے چرچ کے اندر موجود گہرے زخموں، بے وفائیوں اور تکلیف دہ غلطیوں کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ان زخموں کو مندمل کرنے کیلئے چرچ کو عاجزی کے ساتھ خدا کی پاکیزہ نظر کے سامنے خود کو پیش کرنا ہوگا۔پوپ نے خطاب میں فرانس میں پادریوں کی جانب سے بچوں سے زیادتی کے اسکینڈلز کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔ تاہم، بعد ازاں فرانسیسی بشپس کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات کے دوران انہوں نے نابالغوں کے خلاف پادریوں کی زیادتی کو ایک تکلیف دہ مسئلہ قرار دیا۔
انہوں نے چرچ کی جانب سے اسکینڈلز سے نمٹنے کیلئے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ ساتھ ہی انہوں نے تحفظ کے اقدامات مزید مضبوط بنانے اور مسلسل چوکسی برقرار رکھنے پر زور دیا۔2021 کی ایک اہم رپورٹ کے مطابق فرانس میں سات دہائیوں کے دوران تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار بچوں کو چرچ سے وابستہ افراد کی جانب سے جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے بعد فرانسیسی چرچ کو اپنے نظام اور حفاظتی اقدامات پر شدید سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
پوپ لیو نے جون میں اسپین کے دورے کے دوران بھی چرچ کے رہنماؤں پر زور دیا تھا کہ وہ زیادتی سے بچ جانے والوں کی بات سنیں اور انہیں تلافی فراہم کریں۔فرانس کے دورے کے دوران پوپ لیو نے سات متاثرین سے بند کمرے میں ملاقات مقرر کی۔ تاہم، بعض متاثرین نے اس ملاقات سے فوری عملی تبدیلی کی توقعات پر شکوک کا اظہار کیا۔
متاثرین کی ایک تنظیم کی شریک صدر مشیل لی ریون گینے نے کہا کہ اس مسئلے کا حل فوری طور پر سامنے آنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق معاملات بہت آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں۔فرانسیسی بشپس کانفرنس کے ترجمان بشپ پیئر اینٹون بوزو نے کہا کہ پوپ کی متاثرین سے ملاقات کی خواہش اس بات کا اظہار ہے کہ چرچ اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
