اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مسجد اقصیٰ پر دھاوے کی شدید مذمت کی ہے۔ او آئی سی نے اسے مسجد کے تقدس پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس اقدام سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
او آئی سی سیکریٹریٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔ اس میں مشرقی یروشلم بھی شامل ہے۔ اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر بھی اسرائیل کی کوئی خودمختاری نہیں ہے۔
او آئی سی سیکریٹریٹ نے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے مقدس مقامات پر حملے روکنے پر زور دیا ہے۔ او آئی سی نے ان مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔تنظیم کے مطابق مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کا تحفظ ضروری ہے۔ عالمی برادری کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
او آئی سی نے واضح کیا ہے کہ مشرقی یروشلم مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا حصہ ہے۔ تنظیم نے مسجد اقصیٰ سمیت اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی حیثیت پر بھی اپنا مؤقف دہرایا ہے۔
او آئی سی سیکریٹریٹ نے کہا کہ مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی کارروائی قابل تشویش ہے۔ عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔
