عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع ہوگیا

عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع ہوگیا ہے۔ امریکی فوج عراق میں اپنے آخری فوجی اڈوں سے بھی انخلا مکمل کر رہی ہے۔امریکی فوج کا موجودہ انخلا 2024 میں طے پانے والے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ یہ عمل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

امریکی افواج نے 2003 میں عراق میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس کارروائی کا مقصد صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ تھا۔امریکی فوج 2011 میں عراق سے واپس چلی گئی تھی۔ تاہم، داعش کے خلاف جنگ کے دوران 2014 میں امریکی فوج دوبارہ عراق پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اب عراق میں اپنے آخری فوجی اڈوں سے بھی انخلا کر رہی ہے۔ اس عمل سے عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے ایک طویل دور کا اختتام ہو رہا ہے۔دو دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران عراق میں تقریباً 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔

امریکی انخلا کو ایران اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں نے اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی امریکی فوجی انخلا کا خیرمقدم کیا ہے۔ایرانی مؤقف کے مطابق یہ خطے سے امریکی افواج کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

عراقی سکیورٹی ماہرین نے امریکی فوجی انخلا کے ممکنہ اثرات پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کے بعد ملک کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس دوران عراقی سکیورٹی فورسز کا کردار بھی مزید اہم ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے