امریکا نے ایران کے ہتھیاروں کی خریداری اور منتقلی کے نیٹ ورک کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمۂ خزانہ نے ایران اور روس سے منسلک افراد و اداروں کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق نئی کارروائی میں ایران کی ساہا ایئرلائنز بھی شامل ہے۔ روس سے منسلک اداروں اور افراد کو بھی پابندیوں کا سامنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ساہا ایئرلائنز ایران کے لیے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی منتقلی میں ملوث رہی ہے۔ ساہا ایئرلائنز کو امریکی خزانے نے اس سے قبل بھی پابندیوں کے دائرے میں شامل کیا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روسی ادارے ایران کے فوجی حصول کے نیٹ ورک سے منسلک رہے ہیں۔ واشنگٹن نے ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مالی اور تجارتی دباؤ بڑھایا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایران کی وزارت دفاع اور مسلح افواج کے لیے ہتھیاروں اور متعلقہ پرزوں کی خریداری کو محدود کرنا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے نئی پابندیوں کو Operation Economic Outcast کا حصہ قرار دیا ہے۔ یہ مہم ایران کے فوجی حصول اور مالی نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے کے لیے جاری ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس مہم کے تحت ایران سے منسلک مالی، تجارتی اور ترسیلی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا بنیادی مقصد ایران کے ہتھیاروں کی خریداری اور منتقلی کو محدود کرنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق 29 ستمبر کو امریکا نے ایران کے ہتھیاروں کی خریداری سے منسلک 13 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہ کارروائی ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی وسیع تر امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔نئی پابندیوں کے بعد ایران سے منسلک اداروں کے لیے امریکی مالی نظام تک رسائی اور بین الاقوامی لین دین مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
