امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو تارکین وطن کو ان کے آبائی ملک کے بجائے تیسرے ممالک میں بھیجنے کی اجازت دے دی ہے۔عدالت نے انتظامیہ کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے زیریں عدالت کے فیصلے کو عارضی طور پر معطل کردیا۔ اس فیصلے کے تحت تیسرے ممالک میں ملک بدری کا عمل دوبارہ شروع ہوسکے گا۔
بوسٹن کی وفاقی عدالت نے امریکی حکومت کی تیسرے ممالک میں ملک بدری کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔بعد ازاں امریکی اپیل کورٹ نے بھی اس فیصلے کے بیشتر حصے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ملک بدری سے قبل متاثرہ افراد کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے اور اپنے خدشات پیش کرنے کا مؤثر موقع ملنا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے منگل کو ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست منظور کرلی۔ اس فیصلے کے بعد حکومت تیسرے ممالک میں ملک بدری دوبارہ شروع کرسکے گی تاہم سپریم کورٹ نے اس پالیسی کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ عدالت نے اس معاملے پر دسمبر میں دلائل سننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے تحت گزشتہ سال پالیسی کے نفاذ کے بعد 25 ہزار سے زائد تارکین وطن کو 29 ممالک بھیجا جاچکا ہے۔ان میں بڑی تعداد میں افراد کو میکسیکو بھیجا گیا۔ بعض افراد کو جنوبی سوڈان، یوگنڈا اور دیگر ممالک بھی منتقل کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت تیسرے ممالک میں ملک بدری کو اپنی امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بعض تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں تیسرے ممالک میں منتقلی ضروری ہوجاتی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے اسے ملک بدری کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔
