عراق میں امریکا اور اتحادی ممالک کا فوجی مشن باضابطہ طور پر ختم ہوگیا، پینٹاگون

پینٹاگون نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کیا: ایران نے امریکی افواج پر حملے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی

اربيل: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے عراق میں امریکا اور اتحادی ممالک کے فوجی مشن کے باضابطہ اختتام کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اتحادی افواج اور فوجی سازوسامان کا اربیل ایئر بیس سے انخلا مکمل ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ عراق میں آپریشن انہیرنٹ ریزولو (Operation Inherent Resolve) کا فوجی مشن ختم ہوگیا۔

پینٹاگون کے مطابق اتحادی افواج کا منظم انخلا 30 ستمبر کو مکمل ہوا۔ اربیل ایئر بیس سے فوجی اہلکاروں اور سازوسامان کی روانگی مشن کے اختتام کی علامت ہے۔

امریکی حکام کے مطابق یہ پیش رفت عراق میں اتحادی فوجی مشن سے عراقی قیادت میں سیکیورٹی نظام کی طرف منتقلی ہے۔ عراق اور امریکا کے درمیان اب دوطرفہ دفاعی تعاون جاری رہے گا۔

پینٹاگون کے مطابق امریکی تعاون مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ امریکا عراقی شراکت داروں کو مخصوص تربیت فراہم کرتا رہے گا۔

امریکی حکام کے مطابق انٹیلی جنس معاونت بھی جاری رہے گی۔ اس تعاون کا مقصد عراق کی سیکیورٹی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز ملک کی سیکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ کرد پیشمرگہ اور دیگر عراقی فورسز بھی اس عمل میں شامل ہوں گی۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق عراقی فورسز داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کی قیادت کریں گی۔ مقصد داعش کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے