سعودی عرب کسی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دے گا، محمد بن سلمان

سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

محمد بن سلمان نے یہ بات سعودی شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ انہوں نے شاہ سلمان کی جانب سے سالانہ شاہی خطاب بھی پیش کیا۔

سعودی ولی عہد نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی استحکام سے جوڑا۔انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد خطے کو کشیدگی اور تنازعات کے اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور رابطہ کاری کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے مطابق ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سفارتی حل کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اپنی سلامتی کے خلاف کسی خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گی۔

محمد بن سلمان نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حملوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے مسجد اقصیٰ کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔ سعودی ولی عہد نے عالمی برادری سے فلسطین کے مسئلے کے مستقل سیاسی حل کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

سعودی ولی عہد نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یمنی حکومت کو پورے ملک میں اپنی عمل داری بحال کرنے اور استحکام قائم کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ انہوں نے حوثی گروپ پر خطے میں عدم استحکام اور حملوں کا راستہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔محمد بن سلمان کے مطابق سعودی عرب خطے کے امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کے ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتیں بھی برقرار رکھے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے