امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے فلائی دبئی طیارے کے واقعے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق نیتن یاہو نے انہیں بتایا کہ کو پائلٹ ممکنہ طور پر دہشت گرد تھا۔
ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ ایک اسرائیلی مسافر نے طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے میں مدد کی۔
ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی مسافر پیشے کے اعتبار سے پلمبر تھا۔ اسے طیارہ اڑانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ٹرمپ نے کہا کہ مسافر نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد کی۔ اس کے بعد اس نے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ بعد میں طیارے میں موجود دیگر پائلٹس اور سکیورٹی اہلکار کاک پٹ تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اضافی پائلٹس نے بعد میں طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس طرح طیارے کو مزید نقصان سے بچایا گیا۔ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ تفصیلات انہیں نیتن یاہو اور دیگر افراد سے معلوم ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ واقعے کی تمام تفصیلات درست ہیں یا نہیں۔
یہ واقعہ فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 میں پیش آیا۔ پرواز دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی۔پرواز میں 174 افراد سوار تھے۔ دورانِ پرواز کو پائلٹ نے کپتان پر مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس کے بعد طیارے کی بلندی تیزی سے کم ہوئی۔
کپتان شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا۔ طیارے میں موجود اضافی پائلٹس نے کنٹرول سنبھالا۔طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ سعودی حکام نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا۔ واقعے کے محرکات ابھی واضح نہیں ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے بھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر بات کی ہے۔ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔انہوں نے برطانیہ میں پیش آنے والے ایک الگ واقعے کا بھی ذکر کیا۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں توقع ہے کہ جلد معلوم ہوگا کہ برطانوی حکام نے مشتبہ افراد کو کیوں رہا کیا۔
واقعے کے حوالے سے مختلف ممالک کے حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔ فلائی دبئی نے بھی تحقیقات مکمل ہونے تک قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کی اپیل کی ہے۔
