انڈونیشیا کے صدر پرابووو نے 26 رکنی صدارتی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی

انڈونیشیا کے صدر پرابووو سبیانٹو نے نئی صدارتی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی ہے۔ کونسل میں کاروباری شخصیات، سیاست دان، مذہبی رہنما اور دیگر قومی شخصیات شامل ہیں۔انڈونیشین صدر نے جمعہ 2 اکتوبر کو جکارتہ کے صدارتی محل میں کونسل کے ارکان کی حلف برداری کی۔ سرکاری اعلان کے مطابق کونسل میں مجموعی طور پر 26 افراد شامل ہیں۔

نئے ارکان میں مایاپاڈا گروپ کے بانی داتو سری طاہر اور سی ٹی کارپ کے بانی خیرول تانجونگ شامل ہیں۔ دونوں انڈونیشیا کی نمایاں کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ان کے کاروباری مفادات میں مالیات، میڈیا، ریٹیل اور مہمان نوازی سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔

کونسل میں انڈونیشیا کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم نہضۃ العلماء کے سابق رہنما بھی شامل ہیں۔ چار سینئر سیاست دان بھی کونسل کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ ان میں سابق کابینہ وزراء بھی شامل ہیں۔

سابق وزیر پراتیکنو کو صدارتی مشاورتی کونسل کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ حتا راجاسا کو نائب چیئرمین جبکہ محمد قوداری کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔حلف برداری کے بعد پراتیکنو نے کہا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی قومی شخصیات کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے صدر کو مؤثر مشورے فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

نئی کونسل میں مذہبی رہنماؤں کے علاوہ سابق فوجی و پولیس افسران، کاروباری شخصیات، ماہرین قانون اور دیگر معروف شخصیات شامل ہیں۔کونسل کے ارکان میں محمد قریش شهاب، سید عقیل سراج، انور اسکندر، یحییٰ چولیل ستاقوف، اگوم گومیلار، بامبانگ سوساتیو اور بودی گنوان سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں۔

مشاورتی کونسل میں سابق آئینی عدالت کے چیف جسٹس انور عثمان بھی شامل ہیں۔ انہیں 2023 میں اخلاقی ضابطے کی خلاف ورزی پر چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔یہ معاملہ ایک ایسے عدالتی فیصلے سے متعلق تھا جس کے بعد ان کے بھتیجے جبران راکابومنگ راکا کو 2024 کے صدارتی انتخاب میں پرابووو کے نائب صدارتی امیدوار کے طور پر حصہ لینے کی راہ ہموار ہوئی۔

مشاورتی کونسل کی تشکیل پرابووو حکومت میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کابینہ میں دو مرتبہ ردوبدل ہوا۔ان تبدیلیوں میں نئے وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کی تقرری بھی شامل ہے۔ یکم اکتوبر کو سابق سفارت کار ارمّاناتھا ناصر کو نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا۔

رائٹرز کے مطابق، تجزیہ کار آریا فرنانڈس نے کہا ہے کہ نئی تقرریاں صدر کی سیاسی حمایت کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کونسل کو اسٹریٹجک پالیسی سازی میں حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے