پاکستان نے غیرملکی قبضوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کے عوام کے حق خودارادیت سے متعلق قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں عام بحث سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کو ایک صورتحال میں نافذ اور دوسری میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی پاکستان کی جانب سے حق خودارادیت کے معاملے پر متعدد بیانات موجود ہیں۔
عثمان جدون نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ ان قراردادوں میں جموں و کشمیر کے مستقبل کے تعین کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصواب رائے کا حوالہ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی آزادیوں پر پابندیاں اور دباؤ مزید بڑھا ہے۔ ان کے مطابق من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، اظہار رائے اور پرامن اجتماع پر پابندیاں قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔
بھارتی مندوب نے جواب کے حق کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار دیا۔پاکستانی نمائندے نے اس مؤقف کے جواب میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر متنازع مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی حتمی حیثیت متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق طے ہونی چاہیے۔پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور مسئلے کے پرامن حل کی جانب پیش رفت کرے۔
فلسطین کے حوالے سے عثمان جدون نے کہا کہ فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ میں موجود صورتحال، عالمی برادری کے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور احتساب یقینی بنانے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو عملی شکل دینا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کی دستاویزات میں بھی فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
عثمان جدون نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔ انہوں نے محدود مالی گنجائش، غیر پائیدار قرضوں، موسمیاتی بحران اور تکنیکی خلیج جیسے مسائل کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظام کو ان عدم مساوات میں کمی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے حقِ ترقی کو انسانی حقوق کے ایجنڈے میں مناسب مقام دینے پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک، مقدس علامات کی بے حرمتی اور عبادت گاہوں پر حملوں کے خلاف جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجی کے فوائد بھی اجاگر کیے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کو انسان مرکز، جامع اور قابل رسائی بنانا ضروری ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اس کی تشکیل اور فوائد میں بھی مؤثر طور پر شریک کیا جانا چاہیے۔
عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان انسانی وقار، سماجی انصاف، مساوات اور شمولیت پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتا ہے۔جوابی بیان میں پاکستانی نمائندے سرفراز احمد گوہر نے بھارتی مندوب کے الزامات کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے متعلق پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
