اسپین میں بڑھتی ہوئی رہائشی قیمتوں، مہنگے کرایوں اور سستے گھروں کی قلت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔دارالحکومت میڈرڈ سمیت ملک کے تقریباً 50 شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ میڈرڈ میں حکام کے مطابق تقریباً 70 ہزار افراد نے احتجاج میں شرکت کی۔
مظاہرین نے بڑھتے ہوئے کرایوں، بے دخلی کے واقعات اور سستے رہائشی مکانات کی کمی کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ عام شہریوں کے لیے گھروں کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔احتجاج کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے رہائشی بحران سے نمٹنے کے لیے پیش کیے گئے دو اقدامات کا پارلیمنٹ سے مسترد ہونا بھی بنی۔ ان اقدامات میں کرایہ داروں کے تحفظ اور بے دخلی روکنے سے متعلق تجاویز شامل تھیں۔
مظاہرین نے حکومت سے سستے گھروں کی فراہمی اور کرایوں میں اضافے پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ویلنسیا میں احتجاج کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔ بعض مظاہرین شہر کے معروف سٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کمپلیکس میں داخل ہوگئے، جنہیں بعد میں پولیس نے وہاں سے نکال دیا۔مقامی پولیس کے مطابق ویلنسیا میں جھڑپوں کے دوران متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ کم از کم پانچ افراد کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کرایہ داروں کی تنظیموں کی جانب سے عام ہڑتال کی بات بھی سامنے آئی ہے۔اسپین میں رہائشی بحران کے باعث حکومت پر سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ تاہم وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے دفتر نے قبل از وقت انتخابات سے متعلق رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
