قرض فراہم کرنے کی ایپس کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے کی شکایات پر این سی سی آئی اے لاہور نے بڑا فراڈ بے نقاب کردیا۔
حکام کے مطابق قرض واپسی میں تاخیرپر جعلی تصاویر بناکر بلیک میل کرنے والا 39 رکنی گینگ پکڑا گیا۔ شہریوں کی تصاویر ایڈٹ کر کے اہل خانہ کو بھیج کر دھمکیاں دی جاتیں۔
قرض دہندہ کمپنیوں کا طریقہ واردات
حکام کے مطابق نوسر باز موبائل فون و سوشل میڈیا پر قرض کی فراہمی کا اشتہار دیتے ہیں، ضرورت مند یا آزمانے کے غرض سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہی عذاب بن جاتا ہے۔ ایپ ڈاون لوڈ کرتے ہی بنا قرض مانگے قرضہ ایپ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کردی جاتی ہے۔
ایف آئی اے اہلکار کے مطابق متلعقہ شہری کے منع کرنے پر بھی کہ انہیں قرض نہیں چاہیے لیکن نامعلوم افراد اضافی رقم کے ساتھ قرضے کی واپسی کا شدت سے مطالبہ کرتے ہیں۔
شکایات کے مطابق شہری ایپ کا استعمال بند کردے تو بھی قرض دہندہ کی ایپس سے کال آتی ہیں، اضافی رقم نہ دینے اور زبردستی قرضہ دینے کی شکایت پر عریاں تصاویر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق نوسر باز ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے والے شہری کی موبائل گیلری اور سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں، نوسر بازوں کی جانب سے بعض متاثرین کے موبائل پر بہت زیادہ کال کر کے شکایت کی جاتی ہے۔
