ہنزہ: بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہنزہ کے عوام سڑکوں پر آگئے ہیں۔ احتجاجی دھرنے کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان اہم اقتصادی روڈ شاہراہ قراقرم بند ہوگئی ہے۔ چین سے پاکستان اور پاکستان سے تجارتی سامان لے کر چین جانے والے ٹرک پھنس گئے ہیں اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں بیس سے بائیس گھنٹے بجلی کی بندش جاری ہے۔ علی آباد کے مقام پر مظاہرین نے شاہراہ قراقرم کو بلاک کرکے دھرنا دے دیا ہے۔شٹرڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام ،تاجروں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ دوسرا بجلی کے منصوبوں پر پیش رفت سست ہے اور تیسرا تھرمل جنریٹر چلانے کیلئے ایندھن کے زیادہ اخراجات ہیں۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی، معاشی سرگرمیوں اور سماجی خدمات میں شدید خلل پڑا ہے۔بحکومت نے اس مسئلے کو تسلیم کیا اور اس کے لیے فنڈز حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔تھرمل سے بجلی پیدا کی جارہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں 190 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے نصب ہیں۔ گرمیوں میں 140 میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں یہ صلاحیت 76 میگاواٹ ہوتی ہے۔
مظاہرین بجلی کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اورجب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا تھرمل سے بجلی پیدا کی جائے۔ انتظامیہ مظاہرین سے مذاکرات کر رہی ہے اور وزیراعلیٰ کو بھی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔