حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کا اعلامیہ جاری۔۔۔۔اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن ٹیم کے سربراہ عمر ایوب نے اپنی کمیٹی کی طرف سے تحریری مطالبات پر مشتمل دستاویز اسپیکر سردار ایاز صادق کے سپرد کیں۔۔۔۔جس کی کاپیاں تمام ارکان میں تقسیم کی گئیں۔۔۔۔
اپوزیشن کمیٹی کے سر براہ عمر ایوب خان نے تحریری مطالبات کا مسودہ پڑھ کر سنایا۔۔۔۔ مطالبات حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے ارکان نے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔۔۔۔
دونوں کمیٹیوں کے درمیان طے پایا کہ حکومتی کمیٹی سات ورکنگ دنوں کے اندر اندر اپوزیشن کے مطالبات پر اپنا باضابطہ تحریری مؤقف دے گی۔۔۔۔۔ فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی کمیٹی میں شامل سات جماعتیں اپنی اپنی قیادت اور وکلاء سے مشاورت اور رہنمائی لے کر اجتماعی موقف سے اپوزیشن کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔۔۔۔۔
اپوزیشن کمیٹی نے کہا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے آزادانہ ماحول میں ملاقات کا موقع دیا جائے۔ حکومتی کمیٹی نے اس کی تائید کی۔
تحریک انصاف اور حکومتی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان تیسرا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
تحریک انصاف اور اپوزیشن کی طرف سے عمر ایوب خان، علی امین گنڈا پور، اسد قیصر ، حامد رضا، سینیٹر علامہ ناصر عباس اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔۔۔
حکومتی کمیٹی کی جانب سے نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار ، سینیٹر عرفان صدیقی، رانا ثناء اللہ خان ، راجہ پرویز اشرف ، سید نوید قمر، ڈاکٹر فاروق ستار ، محمد اعجاز الحق ، خالد حسین مگسی اور عبدالعلیم خان نے شرکت کی۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی تفصیلات سے دونوں کمیٹیوں کو آگاہ کیا۔۔۔اس پر دونوں کمیٹیوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ غزہ کے مظلوم لوگوں کی آزمائش کے دن ختم ہوں گے۔
آئندہ اجلاس کی تاریخ اسپیکر سردار ایاز صادق دونوں کمیٹیوں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔
دونوں کمیٹیوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صاق کی کوششوں کو سراہا اور ان پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔