شرح سود تین سال کی کم ترین سطح 12فیصد پر آ گئی

0

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کر دیا۔۔۔ 28 جنوری سے ملک میں شرح سود 12 فیصد پر آ جائے گی۔۔۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں مسلسل کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر کنٹرول کے بعد شرح سود میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔۔۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس کراچی میں ہوا جس میں ملک کی معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔۔۔ کمیٹی نے آئندہ چھ ماہ کی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس کمی کا اعلان کیا ہے۔۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مہنگائی کا رجحان توقعات کے مطابق مسلسل نیچے کی جانب ہے اور وہ دسمبر میں 4.1 فیصد سال بسال تک پہنچ گئی۔ اس رجحان کا سبب ملکی طلب کے معتدل حالات اور سازگار اساسی اثر کے ہمراہ مثبت رسدی حرکیات ہیں۔ جنوری میں توقع ہے کہ مہنگائی مزید کم ہوگی اور اس کے بعد آنے والے مہینوں میں تھوڑی بڑھے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ قوزی مہنگائی (core inflation)اگرچہ مسلسل کم ہورہی ہے تاہم ابھی تک بلند سطح پر ہے۔ ساتھ ہی بلند تعدّد کے اظہاریے بدستور معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری دکھا رہے ہیں۔ ایم پی سی کا تخمینہ یہ تھا کہ جون 2024ء سے اب تک پالیسی ریٹ میں 1000 بی پی ایس کی نمایاں کمی کا اثر سامنے آتا رہے گا اور اس سے معاشی سرگرمی کو مزید تقویت ملے گی۔

کمیٹی نے گذشتہ اجلاس سے اب تک ہونے والی اہم پیش رفتوں کا ذکر کیا۔اوّل، مالی سال 25ء کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی نمو ایم پی سی کی پہلے کی توقعات سے کسی قدر کم رہی۔ دوم، دسمبر 2024ء میں جاری کھاتہ فاضل رہا، گو کہ رقوم کی کم آمد اور قرضوں کی بلند ادائیگی کی بنا پر اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر گھٹ گئے۔ سوم، ٹیکس محاصل دسمبر میں نمایاں اضافے کے باوجود مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی کے ہدف سے نیچے رہے۔ چہارم، گذشتہ چند ہفتے کے دوران تیل کی بلند عالمی قیمتوں میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ رہا اور آخراً، عالمی معاشی پالیسی کا ماحول زیادہ غیریقینی ہوگیا جس کی بنا پر مرکزی بینکوں نے محتاط طرز ِعمل اختیار کیا۔

ان حالات اور ابھرتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کمیٹی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ قیمتوں کے استحکام ، جو پائیدار معاشی نمو کے لیے لازمی ہے، کو یقینی بنانے کے لیے محتاط زری موقف کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ایم پی سی کا تجزیہ یہ تھا کہ مہنگائی کو 5-7 فیصد ہدف کی حدود میں مستحکم رکھنے کے لیے آگے چل کر حقیقی پالیسی ریٹ کا کافی حد تک مثبت رہنا ضروری ہے ۔

بلند تعدد کے تازہ ترین اظہاریوں سے اقتصادی سرگرمیوں کی رفتار میں تسلسل ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی عکاسی گاڑیوں، پٹرولیم مصنوعات اور کھاد کی فروخت میں معقول اضافے کے علاوہ درآمدی حجم، بجلی کی پیداوار اور نجی شعبے کو قرضوں کے اجرا میں اضافے سے ہوتی ہے۔ تاہم مالی سال 25ء کی پہلی سہ ماہی کے حقیقی جی ڈی پی کے عبوری ڈیٹا سے 0.9 فیصد معمولی نمو کا پتہ چلتا ہے جبکہ مالی سال 24ء کی پہلی سہ ماہی میں 2.3 فیصد نمو ہوئی تھی۔ اس سست روی کی بنیادی وجہ مالی سال 25ء کی پہلی سہ ماہی میں زرعی شعبے کی نمو میں متوقع تیز رفتار کمی ہے جو 1.2 فیصد رہی جبکہ گذشتہ سال کی اسی مدت میں 8.1 فیصد رہی تھی۔ نیزخ گندم کی فصل کی تازہ ترین دستیاب معلومات، مع خلائی سیارے کی تصاویر بھی گندم کی پیداوار نسبتاً معمولی رہنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ دریں اثنا مالی سال 25ء کی پہلی سہ ماہی میں صنعتی شعبے کی نمو میں کمی گذشتہ سال کی نسبت معتدل ہوگئی۔ زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ بڑے پیمانے کی اشیا سازی میں سست روی کا رجحان، جو صنعتی نمو کو نیچے کی طرف کھینچ رہا ہے، دراصل کچھ کم اہم شعبوں مثلاً فرنیچر کی وجہ سے ہے۔ اس کے برعکس ٹیکسٹائل، خوراک اور مشروبات، اور گاڑیوں جیسے اہم صنعتی شعبوں نے قابلِ ذکر بہتری دکھائی ہے۔ مزید برآں، کاروباری اعتماد کے اشاریے میں مثبت احساسات کا تسلسل پایا گیا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی مستقبل میں اقتصادی سرگرمیوں میں مزید اضافے کی اور حقیقی جی ڈی پی کی نمو سابقہ تخمینے 2.5 سے 3.5 فیصد کی رینج میں رہنے کی توقع کرتی ہے۔

بیرونی شعبہ
5۔ کارکنوں کی ترسیلات زر اور برآمدی آمدنی کی مضبوطی کی بدولت دسمبر کے دوران جاری کھاتے میں 0.6 ارب ڈالر فاضل رہا، جس سے مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی میں مجموعی فاضل بڑھ کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ بلند قدر اضافی کی حامل ٹیکسٹائل کی بدولت برآمدات نے اپنی مضبوط رفتار کو برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ بلند حجم کے بل بوتے پر درآمدات کی نمو میں بھی وسیع البنیاد اضافہ دیکھا گیا، جو معاشی سرگرمی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ درآمدی اخراجات کی رفتار برآمدی آمدنی سے زیادہ رہی ، تاہم ترسیلات زر کی آمد نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا اثر مکمل طور پر زائل کر دیا۔ ان رجحانات ، خصوصاً کارکنوں کی مضبوط ترسیلات زر، کی بنیاد پر جاری کھاتے کے توازن کے منظرنامے میں خاصی بہتری آئی ہے، اور اب توقع ہے کہ یہ مالی سال 25ء کے دوران فاضل اور جی ڈی پی کے 0.5 فیصد خسارے تک رہے گا۔ مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی کے دوران خالص مالی رقوم کی آمد کمزور رہی، تاہم آگے چل کر ان میں بہتری متوقع ہے کیونکہ سرکاری قرضوں کی واپسی کے ضمن میں ایک بڑے حصے کی پہلے ہی ادائیگی ہو چکی ہے۔ نتیجتاً، جاری کھاتے کے منظرنامے میں بہتری کے ساتھ منصوبہ بندی کے مطابق متوقع مالی رقوم کے موصول ہونے سے امکان ہے کہ جون 2025ء تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔

مالیاتی شعبہ
6۔ مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر کے محاصل میں تقریباً 26 فیصد کا قابل ذکر اضافہ ہوا۔ تاہم، ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولی میں کمی کی شرح بڑھی ہے۔لہٰذا، سالانہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ٹیکس محاصل کی نمو میں تیزی سے اضافے کی ضرورت ہو گی۔ مالی سال 25ء کی پہلی ششماہی کے دوران مالی تخمینوں سے مالیاتی توازن میں بہتری کا پتہ چلتا ہے، جس سے قدرے محدود اخراجات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ کمیٹی کی رائے میں توقع کے مطابق بجٹ میں مختص رقوم کے مقابلے میں انٹرسٹ کی کم ادائیگیوں سے امکان ہے کہ مجموعی مالیاتی خسارہ ہدف تک محدود رہے گا۔ تاہم بنیادی توازن کے ہدف کو حاصل کرنا دشوار ہو گا۔

زر اور قرضہ
7۔ زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے موقع پر زرِ وسیع (M2) کی نمو 13.3 فیصد تھی جو 17 جنوری کو مزید کم ہو کر 11.3 فیصد سال بسال رہ گئی۔ زرِ وسیع (M2) کی نمو میں کمی کی بنیادی وجہ این ڈی اے کی نمو میں نمایاں سست روی تھی۔ اگرچہ حکومت نے بینکاری نظام سے نسبتاً کم قرض لیا اور غیر بینکاری ذرائع کی طرف منتقل ہوگئی، تاہم نجی شعبے کو بینکوں کے قرضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ جاری معاشی بحالی، مالی حالات میں بہتری اور بینکوں کی جانب سے قرض تا ڈپازٹ تناسب (اے ڈی آر) کی حدوں کی تعمیل کی پُرزور کوششیں تھیں۔ ان عوامل کا اثر بینک ڈپازٹس پر بھی پڑا، جو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے نمایاں طور پر کم ہوگئے ہیں؛ جبکہ اس مدت کے دوران زیرِ گردش کرنسی میں کچھ اضافہ بھی دیکھا گیا۔

مہنگائی
8۔ عمومی مہنگائی میں کمی کا تسلسل برقرار رہا، جو نومبر میں 4.9 فیصد سے گھٹ کر دسمبر میں 4.1 فیصد سال بسال رہ گئی۔ مہنگائی میں کمی کا رجحان بنیادی طور پر بجلی کے نرخوں میں کمی؛ اہم غذائی اشیا کی مناسب رسد جس کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں کمی آنا؛ شرح مبادلہ میں استحکام؛ اور موافق اساسی اثر کے باعث نمودار ہوا۔ ملکی طلب قابو میں رہنے کے باعث مہنگائی کا بنیادی دباؤ – جو قوزی مہنگائی سے عیاں ہے- معتدل ہوگیا، گوکہ اس کی سطح بلند رہی۔ مزید براں، مہنگائی کی توقعات بھی غیرمستحکم رہیں۔ ان رجحانات کی بنیاد پر، زری پالیسی کمیٹی نے اپنے گذشتہ جائزے کا اعادہ کیا کہ نزدیکی مدت کی مہنگائی غیر مستحکم رہے گی اور توقع ہے کہ آخر مالی سال 25ء تک یہ بڑھ کر مقررہ ہدف کی بالائی سطح کے قریب پہنچ جائے گی۔ اس کی نسبت زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ عمومی مہنگائی برائے مالی سال 25ء اوسطاً 5.5 تا 7.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ آگے چل کر، مہنگائی کا منظرنامہ اجناس کی غیر مستحکم عالمی قیمتوں، بڑی معیشتوں میں تحفظ پسندانہ ریاستی پالیسیوں، توانائی کے زیرِ انتظام نرخوں میں ردّوبدل کے پیمانے اور وقت، تلف پذیر غذائی اشیا کی غیر مستحکم قیمتوں اور اس کے ساتھ ساتھ محاصل کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی اضافی اقدام سے پیدا ہونے والے خطرات سے مشروط ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.