قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس۔۔۔۔ چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال سمیت تاجروں اور صنعتکاروں نے بھی شرکت کی۔۔۔۔ کمیٹی کی صدارت بلال اظہر کیانی نے کی۔۔۔۔۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑال نے کہا ٹیکس قوانین ترمیمی بل سے صرف ڈھائی فیصد افراد متاثر ہوں گے۔۔۔ پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔۔۔۔۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین ایس ایم نبیل نے ایف بی آر کو جائیداد کی خریدوفروخت کرنے والوں کی فوری رجسٹریشن کی تجویز دی ۔۔ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹس کے چیئرمین عارف حبیب نے ریئیل اسٹیٹ سیکٹر میں پانچ کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کرنے پر پوچھ گچھ نہ کرنے کی تجویز پیش کردی
اجلاس میں نافائلرز پر جائیداد کی خریداری پر پابندی کے معاملے پر غور کیا گیا۔۔۔بلال اظہر کیانی نے سوال کیا کہ جائیداد کی خریداری کے لیے ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اہلیت کی شق کیوں شامل کی گئی ؟ ٹیکس قوانین ترمیمی بل میں ٹیکس فائلرز کی اہلیت کی تعریف کو ٹھیک کیا جائے۔۔
چیئرمین آباد ایس ایم نبیل نے ایف بی آر کو جائیداد کی خریدوفروخت کرنے والوں کی فوری رجسٹریشن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دی لوگوں کو ریئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری سے نہ روکا جائے اس قانون سے پراپرٹی سیکٹر بری طرح متاثر ہوگا
عارف حبیب نے تجویز دی کہ پراپرٹی سیکٹر میں 5 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کے بارے پوچھ گچھ نہ کی جائے۔۔ ایک سال تک اس کی اجازت دی جائے۔ اس سے پراپرٹی سیکٹر میں بے تحاشہ رجسٹریشن ہوگی۔۔ پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھ جائے گی جس طرح ٹیکس قوانین ترمیمی بل کا مسودہ بنایا گیا ہے یہ بہت خطرناک ہے۔۔
انہوں نے کہا جس افسر نے رجسٹر کرنا ہے وہ ہمیں مار دے گا۔۔۔ ریئیل اسٹیٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ کا معیشت میں سب سے زیادہ حصہ ہے۔۔۔ ریئیل اسٹیٹ سیکٹر 115 فیصد ٹیکسز ادا کر رہا ہے۔۔۔ اس قانون کی وجہ سے ریئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری رک جائے گی۔۔ پاکستان سے سرمایہ دبئی نکل گیا ہے حکومت نے ان کا کیا کر لیا ہے۔۔
عارف حبیب نے کہا جب پراپرٹی رجسٹرڈ ہو اسی وقت ٹیکس فائلر کی انفارمیشن لی جائے۔۔ بہت سارے کارپوریٹ ڈویلپرز مارکیٹ میں آنا چاہتے ہیں۔۔۔ دنیا میں ریئیل اسٹیٹ سیکٹر کا معیشت میں بڑا حصہ ہے-
چیئرمین آباد نے کہا کہ ایف بی آر کا ڈیٹا پرانا ہوچکا ہے۔۔ ایف بی آر نے پراپرٹی کی نئی ویلیو ایشن جاری کردی ہے ۔۔نئی ویلیو ایشن کے مطابق پراپرٹی کی قیمت بڑھ چکی ہے۔۔۔ ٹیکس قوانین ترمیمی بل سے ڈھائی فیصد نہیں 60 فیصد لوگ متاثر ہوں گے۔۔
پراپرٹی سیکٹر میں بینکنگ ٹرانزیکشنز ہو رہی ہیں۔۔ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ گذشتہ برس رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں 16 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں، ان میں 93 فیصد کی ویلیو 50 لاکھ روپے سے کم تھی۔۔ ان میں سے 3.8 فیصد ٹرانزیکشنز ایک کروڑ روپے سے کم مالیت کی ہیں۔۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا ٹیکس قوانین ترمیمی بل سے صرف 2.5 فیصد افراد متاثر ہوں گے۔۔۔ ٹیکس قوانین ترمیمی بل کے تحت آن لائن ڈیکلریشن جمع کرائی جا سکتی ہے۔۔ایف بی آر آن لائن ڈیکلریشن کے لیے ایپ تیار کر رہا ہے۔۔۔ جائیداد کی خریداری سے ایک گھنٹہ قبل ڈیکلریشن جمع کرایا جا سکتا ہے-
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹرانزیکشنز ٹیکسز کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،غیر ٹیکس شدہ انکم کو پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔۔ ان ڈیکلیئرڈ سرمائے سے پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری ہورہی ہے۔۔ بینکنگ چینلز سے ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں جو ان ڈیکلیئرڈ سرمایہ ہوتا ہے۔۔ پاکستان میں 10 ارب روپے سے زائد اثاثے ظاہر کرنے والوں کی تعداد صرف 12 ہے، پاکستان میں بہت زیادہ انڈر ویلیوایشن ہوتی ہے ذیلی کمیٹی نے نافائلرز پر جائیداد کی خریداری کے قانون پر ایف بی آر سے مزید وضاحت طلب کرلی