جنگ بندی کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں کو واپسی

0

یرغمالیوں کی رہائی پر اتفاق کے بعد ہزاروں بےگھر فلسطینی غزہ کی جانب روانہ۔۔۔۔

اسرائیل کی راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، اور حماس کے اسرائیلی خاتون یرغمالی اربل یہود اور دیگر دو افراد کو رہا کرنے پر اتفاق کے بعدہزاروں فلسطینی آج غزہ کے شمالی علاقوں کی طرف روانہ ہوئے ۔
عینی شاہدین کے مطابق، غزہ میں پہلا کراسنگ پوائنٹ صبح 7 بجے کھلا اور اس کے بعد شہری غزہ پہنچے ،جبکہ دوسرا کراسنگ پوائنٹ صبح 9 بجے کھلا۔
کراسنگ پوائنٹس کھلنے کی خبر کےپھیلتے ہی بے گھر خاندانوں نے پناہ گاہوں اور خیمہ بستیوں میں خوشی کا اظہار کیا۔
ایک بے گھر خاتون غادہ جو پانچ بچوں کی ماں ہیں نے کہا کہ، رات بھر نیند نہیں آئی ہر چیز تیار تھا اور جیسے ہی روشنی ہوئی ہم روانہ ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ، کم از کم ہم گھر واپس جا رہے ہیں، اب کہہ سکتی ہوں کہ، جنگ ختم ہو گئی، اور امید ہے کہ ،امن قائم رہے گا۔
جنگ بندی معاہدے کے تحت شمالی غزہ کے رہائشیوں کو پچھلے ہفتے واپس جانا تھا، لیکن اسرائیل نے حماس پر یرغمالی اربل یہود کو رہا نہ کرنے کا الزام لگا کر راستے بند رکھے۔
اتوار کی رات قطری ثالثوں نے اعلان کیا کہ، حماس اربل یہود اور دو دیگر یرغمالیوں کو جمعہ سے پہلے رہا کرے گی، اور اسرائیل بدلے میں بے گھر فلسطینیوں کو پیر کی صبح شمالی غزہ واپس جانے دے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ، حماس اربل یہود، سپاہی اگام برگر، اور ایک اور یرغمالی کو رہا کرے گی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ، پیر کی صبح فلسطینی خاندانوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے دیا جائے گا۔
قطری اعلان کے بعد حماس نے آج صبح کہا کہ، انہوں نے ثالثوں کو اسرائیلی یرغمالیوں کی فہرست فراہم کر دی ہے، جو غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں رہا کیے جائیں گے۔
یہ اقدام قطر اور مصر کے ثالثوں کی کوششوں سے ممکن ہوا، جس سے غزہ کی پٹی کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بے گھر 6 لاکھ 50 ہزار فلسطینی اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جا سکیں گے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 15 ماہ کی اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 47 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران تقریبا250 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے نے دہائیوں پرانے اسرائیلی-فلسطینی تنازعے میں مزید خونریزی کو جنم دیا۔
ہزاروں فلسطینیوں نے پچھلے دو دن تک راستے کھلنے کا انتظار کیا، اس دوران اسرائیل اور حماس نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ، غزہ کے شہری ساحلی راستے سے صبح 5 بجے پیدل اور مشرقی صلاح الدین روڈ سے 7 بجے گاڑیوں میں واپس جا سکیں گے۔ تاہم، انہوں نے اسرائیلی فورسز کی پوزیشنز کے قریب جانے سے متنبہ کیا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.