سولر پینلز کی آڑ میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرنے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمپنی نے دو نجی بینکوں سے استعمال ہونے والے اکاونٹس کی مزید تفصیلات طلب کر لیں۔۔۔ اسٹیٹ بینک نے دونوں بینکوں پر 6 کروڑ 70 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا ۔۔۔کمیٹی کو نجی بینک کے حکام نے بتایا کہ پشاور کی مون لائٹ نامی کمپنی نے اگست 2018 میں بادامی باغ لاہور میں اکاونٹ کھلوایا ۔۔۔جس میں چار سال میں مجموعی طور پر 8 ارب روپے کا ٹرن اوور ہوا ۔۔
برائٹ سٹار کمپنی نے مئی 2018 میں اکاونٹ کھلوایا جس نے چار سال میں ساڑھے 44 ارب روپے کا کاروبار کیا ۔۔۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دونوں کمپنیوں نے ایک سال میں دو سے پانچ ارب روپے کی ادائیگیاں کیں اس کو کیوں بروقت نہیں پکڑا گیا۔۔
بینک حکام نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں کیخلاف بروقت مشکوک ٹرانزیکشن کی رپورٹ دائر کی گئیں تھیں۔۔۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اہم معاملہ بھی یہی ہے کہ ابھی تک اس کیس کے اصل حقائق سامنے نہیں آ سکے
چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ اسٹیٹ بینک نے کیا کارروائی کی جس پر اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کی دونوں بینکوں پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔۔۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ سکینڈل میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔۔کمیٹی نے دونوں نجی بینکوں کو بینک اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس تک فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دیں