فلپائنی صدر کی چین کو ڈیل کی پیشکش: "جارحیت روکیں، امریکی میزائل ہٹا دیے جائیں گے”
فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے چین کے ساتھ بحیرہ جنوبی چین میں تنازع کو حل کرنے کے لیے ایک بڑی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر چین اپنی "جارحانہ کارروائیاں” اور خطے میں طاقت کے مظاہرے کو روک دے تو فلپائن اپنے شمالی علاقے سے امریکی ٹائیفون میزائل سسٹم ہٹانے کے لیے تیار ہے۔
میزائل سسٹم اور چین کا اعتراض
- ٹائیفون میزائل سسٹم، جو اپریل 2024 میں تعینات کیا گیا، 1,600 کلومیٹر کی رینج رکھتا ہے اور چین کے کچھ حصوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- چین نے میزائل کی موجودگی کو "خطے میں کشیدگی بڑھانے” اور "ہتھیاروں کی دوڑ” کا سبب قرار دیا ہے۔
مارکوس کی مشروط پیشکش
سیبو صوبے میں ایک پریس بریفنگ کے دوران صدر مارکوس نے چین کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا:
"اپنے علاقے پر دعویٰ کرنا بند کریں، ہمارے ماہی گیروں کو ہراساں کرنا بند کریں، ہماری کشتیوں کو نشانہ بنانا اور آبی توپوں کا استعمال بند کریں۔ اگر آپ اپنی جارحیت روک دیں گے تو ہم امریکی میزائل ہٹا دیں گے۔”
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
- حال ہی میں میزائل سسٹم کو فلپائن کے ایک اسٹریٹجک مقام پر منتقل کیا گیا، جو چینی اور فلپائنی افواج کے درمیان سمندری تنازعات کے قریب ہے۔
- فلپائنی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدام علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے اور اس میں تبدیلی تبھی ممکن ہے جب چین اپنی کارروائیاں بند کرے۔
چینی وزارت خارجہ کا ردعمل
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اس تعیناتی کو "انتہائی خطرناک اقدام” قرار دیتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی کا ذمہ دار فلپائن اور امریکہ کو ٹھہرایا۔
فلپائن کا دفاعی موقف
فلپائن کے وزیر دفاع گلبرٹو ٹیوڈورو نے چین کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ "میزائل کی تعیناتی ایک اندرونی دفاعی معاملہ ہے اور کسی بھی غیر ملکی دباؤ سے متاثر نہیں ہوگی۔”
بحیرہ جنوبی چین کا تنازعہ
بحیرہ جنوبی چین ایک انتہائی متنازعہ آبی گزرگاہ ہے، جہاں چین، فلپائن، ویتنام، ملائیشیا، برونائی، اور تائیوان اپنے اوورلیپنگ علاقائی دعوے رکھتے ہیں۔
- امریکہ نے فلپائن کی حمایت میں چین کے جارحانہ رویے کی مذمت کی ہے۔
- حالیہ مہینوں میں فلپائنی اور چینی کوسٹ گارڈز کے درمیان جھڑپوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خطے میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی
فلپائنی صدر کی پیشکش چین پر دباؤ ڈالنے اور اپنے اتحادی امریکہ کو ایک متوازن پیغام دینے کی کوشش ہے۔ اگر چین اور فلپائن اس معاملے پر اتفاق کرتے ہیں تو یہ خطے میں تنازع کو کم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔