ڈی آر کانگو میں بڑھتا ہوا تشدد: پانچ دنوں میں 700 سے زائد ہلاکتیں، اقوام متحدہ کی گہری تشویش
جمہوری جمہوریہ کانگو (DRC) میں جاری پرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں صرف پانچ دنوں کے دوران 700 سے زائد افراد ہلاک اور 2,800 زخمی ہو گئے ہیں، اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں ان اعداد و شمار کا انکشاف کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (OCHA) کے مطابق، تشدد کا یہ حالیہ سلسلہ بنیادی طور پر شمالی کیوو اور اٹوری کے صوبوں میں دیکھا گیا ہے، جہاں سرکاری افواج اور مختلف مسلح ملیشیاؤں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں اورملیشیاؤں کے درمیان طاقت اور وسائل پر کنٹرول کی کشمکش بدامنی کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ کی تشویش اور عالمی برادری کا ردعمل
اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا، "اتنی مختصر مدت میں خونریزی کی یہ سطح تشویشناک ہے۔ ایک بار پھر، شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔”اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال کو قابو میں نہ لایا گیا تو ڈی آر کانگو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تشدد کی کئی وجوہات ہیں:
- علاقائی تنازعات: نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ۔
- وسائل پر قبضے کی جنگ: قیمتی معدنی وسائل، جیسے کہ سونا اور کولٹن، پر مختلف گروہوں کا دعویٰ۔
- مسلح ملیشیاؤں کی سرگرمیاں: M23 باغی گروپ سمیت دیگر مسلح گروہ حکومتی افواج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔