راولپنڈی : پاکستان کے امن دستوں میں شامل پاکستان آرمی کے جوانوں نے ہمیشہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض سے لگن کے باعث خود کو ممتاز کیا ہے۔
28 جنوری 2024کو سپاہی محمد طارق شہید اپنی یونٹ کےہمراہ سوڈان کے علاقے ایبئی میں مقامی زخمیوں کو ہسپتال منتقلی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔
راستے میں دہشتگردوں نے گھات لگا کر امن دستے کےقافلے پر حملہ کر دیا۔پاکستانی امن دستوں نے مؤثر جواب دیا اور دہشتگردوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی محمد طارق شہید ہوگئے۔
افواج پاکستان اندرون اور بیرون ملک ہر محاذ پر پاکستان کی سر بلندی کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔ اب تک 181 پاکستانی دنیا بھر میں قیام امن کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
سپاہی محمد طارق شہید نے ثابت کیا کہ پاکستان آرمی کے جوان کسی بھی سر زمین پر ہوں ، اپنے فرض کی ادایئگی کو عبادت سمجھتے ہیں۔
فرض کی ادایئگی میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے سپاہی محمد طارق شہید نے تاریخ رقم کی۔ سپاہی محمد طارق شہید کو انکی جرات و بہادری کے اعزاز میں پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔سپاہی محمد طارق شہید کی قربانی آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہے۔