ایران کے سپریم لیڈر کی امریکہ کے ساتھ مجوزہ جوہری مذاکرات پر تنقید(امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا)

0

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو غیر دانشمندانہ اور ناقابلِ احترام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کی فضائیہ اور فضائی دفاعی فورس کے کمانڈرز سے خطاب میں کہا کہ "امریکہ کے ساتھ مذاکرات ہمارے مسائل حل نہیں کریں گے۔ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے نہیں کرتا۔”انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کا حوالہ دیا، جس میں ایران نے اہم رعایتیں دیں، لیکن امریکہ نے پابندیاں ہٹانے کے بجائے مزید دباؤ بڑھایا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ "ٹرمپ نے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا عزم کیا تھا اور ایسا ہی کیا۔ یہ صرف ایک فرد کی پالیسی نہیں بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کا مستقل نمونہ ہے۔”سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کو دھمکی دی تو اسے جوابی دھمکی دی جائے گی، اور ایران کی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام پر بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے ایران کے معاشی چیلنجوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل بیرونی مذاکرات کے بجائے اندرونی وسائل پر انحصار ہے۔ انہوں نے 11 فروری کو ایران کے یومِ آزادی (22 بہمن) کی تقریبات کو عوامی اتحاد اور خودمختاری کی علامت قرار دیا۔”ایرانی قوم اپنی قیادت، اتحاد اور استقامت کے ذریعے ہر مشکل پر قابو پا سکتی ہے۔” –

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.