اسلام آباد ہائیکورٹ میں ملک کی تین ہائیکورٹس سے 3 ٹرانسفر ججز کا معاملہ مزید الجھنے لگا۔۔۔
جسٹس بابر ستار نے بھی چیف جسٹس عامر فاروق کو 6 صفحات کا خط لکھ دیا۔۔۔جسٹس بابر ستار نے ٹرانسفر ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔
خط میں چیف جسٹس عامر فاروق کے ہائیکورٹ ایڈمنسٹریشن کمیٹی تبدیلی کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔۔۔۔
جسٹس بابر ستار نے خط میں مطالبہ کیا کہ سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کے نوٹیفکیشن واپس لئے جائیں۔۔۔ سینیارٹی لسٹ کے خلاف ریپریزنٹیشن فائل کرنے کا ذکر کیا۔۔۔۔
خط میں کہا گیا ہے سینیارٹی لسٹ اور ایڈمنسٹریشن کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنا غیر آئینی غیر قانونی ہے۔۔۔ بغیر اسلام آباد ہائیکورٹ جج کے حلف اٹھائے ٹرانسفر ججز کو کمیٹی میں رکھنا غیر قانونی ہے۔۔۔۔ ٹرانسفر نوٹیفکیشن میں کہیں نہیں لکھا ٹرانسفر عارضی ہے یا مستقل ہے۔۔۔۔
آرٹیکل 194 کے تحت ہمارے معزز ساتھی ججز نے اپنی اپنی ہائیکورٹس کا حلف اٹھا رکھا ہے۔۔۔ حلف میں تینوں ججز نے کہہ رکھا ہے وہ اپنی اپنی ہائیکورٹس میں بطور جج اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔۔۔