امریکہ کی اسرائیل کو 7.4 بلین ڈالر کے جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری
امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل کو 7.4 بلین ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے میں بم، گائیڈنس سسٹمز، فیوز، اور ہیل فائر میزائل شامل ہیں، جو اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو مزید تقویت دیں گے۔
امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے 6.75 بلین ڈالر کے بموں اور متعلقہ سازوسامان کی فروخت کی منظوری دی ہے۔660 ملین ڈالر کے ہیل فائر میزائل کی فروخت کی بھی اجازت دی گئی ہے، جو اسرائیلی فضائیہ کے اسلحہ خانے میں ایک اہم اضافہ ہوگا۔
DSCA کے مطابق، اس اسلحہ معاہدے کا مقصد اسرائیل کو درپیش موجودہ اور ممکنہ سیکیورٹی خدشات کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ ہتھیار سرحدی دفاع، حساس تنصیبات کی حفاظت، اور خطے میں ممکنہ خطرات کے تدارک کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ہیل فائر میزائل، جو اپنی اعلیٰ درستگی کی وجہ سے معروف ہیں، اسرائیلی فضائیہ کو مخصوص اہداف پر حملوں کے دوران برتری فراہم کریں گے۔
یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل غزہ میں جاری تنازعے میں مصروف ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد، اسرائیل نے غزہ میں ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔