چھ ماہ میں ایف بی آر نے کتنا ٹیکس وصول کیا۔۔۔ دیگر ذرائع سے کتنی آمدنی آئی اور کس مد میں حکومت نے کیا خرچ کیا۔۔۔۔ وزارت خزانہ نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے مالی آپریشنز کی رپورٹ جاری کر دی۔۔۔۔
رپورٹ کے مطابق صرف سود کی مد میں حکومت نے رواں مالی کے چھ ماہ میں 5000 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی۔۔۔ وزارت خزانہ نے کہا ہے آئی ایم ایف کی متعدد شرائط پوری کر دی گئیں۔ 2900 ارب ہدف کے مقابلے پرائمری سرپلس 3600 ارب روپے تک پہنچ گیا۔۔۔۔
2900 ارب ہدف کے مقابلے پرائمری سرپلس 3600 ارب روپے تک پہنچ گیا ،،،،،اسٹیٹ بینک کو 2 ہزار 500 ارب روپے کا منافع ہوا جو قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔۔۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں مجموعی ٹیکس وصولی 9 ہزار 763 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ، اس میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 5 ہزار 624 ارب روپے جبکہ صوبوں کی ٹیکس وصولی 442 ارب روپے رہی ۔ وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی 3 ہزار 696 ارب روپے جبکہ صوبوں کی نان ٹیکس آمدن 142 ارب روپے رہی ۔ وفاق کو حکومتی کمپنیوں سے 83 ارب روپے اور ڈیویڈنڈ کی مد میں 97 ارب 40 کروڑ روپے آمدن ہوئی ۔
رپورٹ میں مزید بتایاگیاکہ حکومت نے پنشن کی مد میں 449 ارب روپے ، سول گورنمنٹ کو چلانے کیلئے 339 ارب روپے ، سبسڈیز کی مد میں 237 ارب روپے جبکہ گرانٹس کی مد میں 585 ارب روپے خرچ کیے ۔ سود کی مدد میں 5 ہزار 141 ارب روپے کی ادائیگی ہوئی جبکہ دفاع کیلئے 890 ارب روپے فراہم کیے گئے۔ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 ہزار 339 ارب روپے دیئے گئے۔۔۔