اسماعیلی جماعت کے 49ویں امام، پرنس کریم آغا خان کی تدفین کردی گئی نمازجنازہ میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے کی تھی
اسماعیلی جماعت کے 49ویں امام، پرنس کریم آغا خان جو 4 فروری 2025 کو 88 برس کی عمر میں لزبن، پرتگال میں انتقال کر گئے تھے ان کی نماز جنازہ آج 9 فروری کو لزبن کے اسماعیلی مرکز میں ادا کی گئی، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے اسماعیلی جماعت کے اراکین، عالمی رہنماؤں، اور معززین نے شرکت کی۔ تقریب میں ان کی خدمات، قیادت، اور انسان دوستی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
نماز جنازہ کی تقریب کو "دی اسماعیلی ٹی وی” پر براہ راست نشر کیا گیا، جس سے لاکھوں اسماعیلیوں کو شرکت کا موقع ملا۔ شرکاء میں پرنس کریم آغا خان کے جانشین، اسماعیلیوں کے 50ویں امام پرنس رحیم الحسینی، ان کے اہل خانہ، پرتگال کے صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا، کینیڈا کے وزیر اعظم، اور پاکستان کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ سمیت اہم عالمی شخصیات شامل تھیں۔
مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے، اسماعیلی رضاکاروں نے جنازے کو جنازہ گاہ میں لے جایا۔ سفید کپڑے میں لپٹے تابوت کو جمع جماعت کے سامنے رکھا گیا۔ تقریب کا آغاز قرآن پاک کی منتخب آیات کی تلاوت سے ہوا، اس کے بعد اجتماعی صلوات کی تلاوت کی گئی۔ حاضرین نے مرحوم امام کو آخری خراج عقیدت پیش کیا۔
فاتحہ کی تلاوت کے بعد، پرنس کریم آغا خان کے اہل خانہ نے پرنس رحیم الحسینی کی قیادت میں ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ ان کی خدمات اور انسان دوستی کی میراث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ان کی وفات پر، حکومت پاکستان نے 8 فروری کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا، اور اس دن تمام سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ پرنس کریم آغا خان کی وفات کے بعد، ان کے بیٹے پرنس رحیم آغا خان کو اسماعیلی جماعت کا 50واں امام نامزد کیا گیا ہے۔
پرنس کریم آغا خان نے اپنی 67 سالہ امامت کے دوران جماعت کی روحانی اور مادی فلاح کے لیے اپنی زندگی وقف کی۔ انہوں نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) قائم کیا، جس کے تحت تعلیم، صحت، اور معاشی ترقی کے بے شمار منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان کی قیادت میں، AKDN نے دنیا کے غریب ترین علاقوں میں اسکولوں، اسپتالوں، اور دیگر اداروں کی تعمیر کی، اور کمیونٹیز کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔