ٹرمپ کی ایران پالیسی میں بڑی تبدیلی: فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی معاہدے پر زور
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی معاہدے کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے، جسے امریکی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا معاہدہ اسرائیل کو تہران پر حملے سے روک سکتا ہے اور خطے میں استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔
ٹرمپ کی نئی حکمت عملی: دباؤ کی جگہ مذاکرات؟
نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ "میں چاہتا ہوں کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہو جو جوہری ہتھیاروں کو روکے۔ میں جنگ کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہوں، کیونکہ کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔”
یہ بیان 2018 میں ان کی ایران کے خلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی سے ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے، جس میں پابندیاں اور فوجی طاقت کا استعمال مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
کیا نیا معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کرے گا؟
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی سفارتی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ *”میں نہیں چاہتا کہ ایران وہ کرے جو وہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے، اور میں انہیں سمجھانے کا طریقہ جانتا ہوں۔