اسلام آباد : آئی ایم ایف کے خصوصی وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی جس میں چیف جسٹس نے وفد کو عدالتی نظام اور اصلاحات سے متعلق آگاہ کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے آئی ایم ایف کے چھ رکنی وفد نے ملاقات کی۔
پیر کو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کے لیے ایجنڈا مانگا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، میں نے وفد کو بتایا کہ ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں۔ وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق کے بارے ہم جاننا چاہتے ہیں، میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہے کہ ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، یہ ہمارا کام نہیں ہے آپکو ساری تفصیلات بتائیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں چیف جسٹس نے کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی پر بھی بات کروں گا۔میں نے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا ہم تجویز دیں گے، ہائیکورٹس میں جلد سماعت کے لیے بینچز بنائیں گے۔ میں نے وفد سے کہا جو آپ کہہ رہے ہیں وہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے وفد نے کہا ہم پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا تحفظ چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے وزیراعظم کا خط بھی آیا، وزیراعظم کو اٹارنی جنرل کے ذریعے سلام کا جواب بھجوایا اور پیغام دیا کہ ان کے خط کا جواب نہیں دوں گا، میں نے وزیراعظم صاحب کو بذریعہ اٹارنی جنرل کہا اپنی ٹیم کے ساتھ آئیں۔ ہم نے قائد خزب اختلاف سے بھی بڑی مشکل سے رابطہ کیا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو سپریم کورٹ مدعو کیا ہے۔ہم نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ بانی پی ٹی آٸی کا خط موصول ہوا ہے۔ خط کے مندرجات سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔ بانی پی ٹی آٸی نے خط کے ساتھ دیگر مواد بھی لگایا ہے۔ بانی پی ٹی آئی جو ہم سے چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل ایک سو چراسی کی شق تین سے متعلق ہیں، میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں، بانی پی ٹی آئی کا خط ججز آئینی کمیٹی کو بجھوایا ہے، وہ طے کریں گے۔‘
چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران صحافیوں نے سوال کیے کہ بانی پی ٹی آئی کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کے لیے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا، عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں، انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا۔‘
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خط لکھنے والے ججز کی وجہ سے ایک اہل جج سپریم کورٹ کا حصہ بننے سے رہ گیا، چیف جسٹس کو لکھا جانے والا خط مجھے ملنے سے پہلے میڈیا کو پہنچ جاتا ہے۔ ججز کو شائداعتبار نہیں رہا اس میں قصور میرا ہے کیونکہ میں بطور سربراہ میں انکے مسائل حل نہیں کر پا رہا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں چیزوں کو مکس نہیں حل کرنا ہے، ہمیں سسٹم پر اعتبار کرنا ہوگا۔
’میں نے ججز سے کہا سسٹم کو چلنے دیں، سسٹم کو نہ روکیں، میں نے کہا مجھے ججز لانے دیں۔ میرا مسئلہ ہے کہ میں مختلف نوعیت کا جج ہوں، خط لکھنے والے ججز اگر کمیشن اجلاس تک انتظار کر لیتے تو اچھا ہوتا۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ کا جج بنانا چاہتا تھا، میرے بھائی ججز جو کارپوریٹ کیسز کرتے تھے، وہ آج کل کیسز ہی نہیں سن رہے۔
’کمیشن کو کہا مجھے ٹیکس اور کارپوریٹ والے ججز درکار ہیں، کمیشن ارکان نے کہا رولز کے مطابق دو مرتبہ ووٹنگ ہوچکی ہے، ایک تجویز آئی کہ عارضی جج لگا دیں پھر وہ سپریم کورٹ میں بھی مستقل ہوسکیں گے، اگر کل ججز بائیکاٹ نہ کرتے تو ایک سینئر اچھا ججز آجاتا۔ ‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ’جب وقت آئے گا جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا نام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے زیر غور ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے تمام ججز کو ایک ساتھ بلا کر بات کی تھی، تمام ججز نے کہا جو بھی سپریم کورٹ آئے انہیں اعتراض نہیں ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جیلوں میں جاتا ہوں تو لوگ مجھے قصوروار سمجھتے ہیں، آئندہ ہفتے سے دو مستقل بینچ صرف کرمنل مقدمات سنیں گے، ججز ہوں گے تو ہی بنچز بنا سکوں گا