برطانوی حکومت کا غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ

0

برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین میں سختی کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونے والے افراد کے لیے شہریت کے حصول کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ نئی گائیڈ لائنز کے مطابق چھوٹی کشتیوں، خفیہ راستوں یا دیگر غیر قانونی ذرائع سے برطانیہ آنے والے تارکین وطن کو برطانوی شہریت نہیں دی جائے گی۔

برطانوی محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، ان نئی پالیسیوں کا مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو غیر قانونی طریقوں سے ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ایک مضبوط پیغام دیں گے اور برطانیہ میں صرف قانونی طور پر داخل ہونے والوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں تقریباً 36,816 افراد نے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش کی، جو کہ 2023 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی قیادت میں نئی حکومت کو عوامی دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی امیگریشن پر قابو پائے۔ اس فیصلے کے بعد غیر قانونی تارکین وطن، بشمول پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد، شہریت حاصل کرنے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔

حکومت کے اس اقدام پر انسانی حقوق کے اداروں اور کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان سٹیلا کریسی نے اس پالیسی کو "ظالمانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "اگر کوئی شخص قانونی طور پر ریفیوجی کا درجہ حاصل کر لیتا ہے تو اس کے لیے شہریت کا دروازہ بند کرنا غیر منصفانہ ہوگا۔”

امیگریشن سے متعلق ایک تنظیم "فری مومنٹ” نے اس گائیڈ لائن کو "غیر معمولی طور پر سخت اور سماجی انضمام کے خلاف” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت بڑی تعداد میں مہاجرین اور پناہ گزین افراد برطانوی شہریت حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گے، جو طویل المدتی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی طریقوں سے آنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کرنا اور امیگریشن سسٹم کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اپنے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ ان مجرمانہ نیٹ ورکس کو توڑنے پر ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کو برطانیہ اسمگل کرتے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم رشی سونک کی متنازعہ "روانڈا اسکیم” کو بھی ختم کر دیا، جس کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کو برطانیہ سے روانڈا بھیجنے کا منصوبہ تھا۔

برطانیہ کی پارلیمنٹ میں حال ہی میں ایک نیا "بارڈر سیکیورٹی، اسائلم اور امیگریشن بل” پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید اختیارات دیے جائیں گے تاکہ وہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کر سکیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.