معروف ترک خطاط حسن چیلیبی 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

0

عالمی شہرت یافتہ ترک خطاط حسن چیلیبی، جنہیں بڑے پیمانے پر "ماسٹر آف کیلیگرافرز” کے طور پر جانا جاتا ہے، 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ اسلامی خطاطی کے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا، لیکن ان کا فن اور ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔

زندگی اور فن کا سفر

1937 میں ترکی کے شہر ارزورم (Erzurum) میں پیدا ہونے والے حسن چیلیبی نے اپنی زندگی اسلامی خطاطی کے مقدس اور پیچیدہ فن کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے عثمانی طرز کی کلاسیکی خطاطی میں مہارت حاصل کی اور اپنی زندگی بھر اس فن کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔

استادِ خطاطی – اپنے دور کے ممتاز خطاط حمید آی تاچ سے تعلیم حاصل کی
عظیم مساجد کی تزئین و آرائشمکہ کی عظیم الشان مسجد اور مدینہ کی مسجد نبوی میں ان کے فن پارے موجود ہیں
عالمی سطح پر خدمات – دنیا بھر کی مشہور مساجد اور اداروں میں تاریخی نوشتہ جات کی بحالی
استاد الاساتذہ – کئی نامور خطاطوں کو تربیت دی، جنہوں نے ان کی فنی وراثت کو آگے بڑھایا
خطاطی کی مختلف اقسام میں مہارتثلث، نسخ، اور دیوانی رسم الخط میں مہارت کے لیے مشہور تھے

خراج تحسین اور تعزیت

ان کے انتقال پر فنکاروں، علمائے کرام اور ثقافتی اداروں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا کہ ترکی کے وزیر برائے ثقافت و سیاحت نے کہا کہ "حسن چیلیبی ہمارے فنی ورثے کے محافظ تھے۔ خطاطی میں ان کی خدمات آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہیں گی۔”

ریسرچ سینٹر فار اسلامک ہسٹری، آرٹ اینڈ کلچر (IRCICA) نے ان کے اسلامی خطاطی کے تحفظ اور احیاء میں کردار کو سراہا اور ان کے کام کو ایک بیش بہا ثقافتی سرمایہ قرار دیا۔

پائیدار اثر اور ورثہ

✅ حسن چیلیبی کی تدریس نے اسلامی خطاطی کی کلاسیکی تکنیک کو محفوظ رکھا۔
✅ ان کے بہت سے شاگرد آج کے نامور خطاطوں میں شامل ہیں۔
✅ ان کا کام مساجد، مقدس مقامات، اور تاریخی نوشتہ جات میں ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

آخری رسومات اور الوداعی خراج تحسین

ان کی آخری رسومات استنبول میں ادا کی جائیں گی، جہاں مداح، طلباء اور فنکار انہیں آخری خراج عقیدت پیش کریں گے۔حسن چیلیبی کا فن اور ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا، کیونکہ خطاطی کی دنیا میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جا چکا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.