فلسطینی مزاحمت کی اپیل: مسلمانوں سے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدامات کا مطالبہ
فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے مسجد ابراہیمی کا انتظامی کنٹرول اسرائیلی ادارے کو منتقل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام مذہبی اور تاریخی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ فلسطینی مزاحمت نے خبردار کیا کہ اسرائیل مسجد کی شناخت کو تبدیل کرنے یا اسے یہودی عبادت گاہ میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور فلسطینی عزم
- حماس اور اسلامی جہاد نے بھی اس فیصلے کو اسلامی شناخت مٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
- فلسطینی حکام نے عالمی برادری سے اسرائیلی اقدامات کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی مداخلت پر زور دیا ہے۔
یہ معاملہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسلامی مقدس مقامات کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے۔ عالمی توجہ اب ہیبرون پر مرکوز ہے، جہاں مسجد ابراہیمی کی تقدیر اسرائیل-فلسطین تنازعے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔