یورپی یونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں 45 بلین ڈالر (26 بلین یورو) کے جوابی محصولات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدامات یکم اپریل سے نافذ ہوں گے اور وسیع پیمانے پر امریکی برآمدات کو متاثر کریں گے۔
یورپی یونین کے جوابی اقدامات کے تحت امریکی اسٹیل، ایلومینیم، ٹیکسٹائل، گھریلو آلات اور زرعی اشیاء جیسے پولٹری، گائے کا گوشت، سمندری غذا، گری دار میوے، انڈے اور چینی شامل ہوں گے۔ اس فیصلے کا مقصد امریکی تجارتی پالیسیوں کے خلاف مؤثر ردعمل دینا ہے، جس سے دونوں خطوں کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا امکان ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے امریکی محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافے کا سبب بنے گا اور امریکا و یورپ میں سپلائی چین کو متاثر کرے گا۔
امریکہ یورپی اسٹیل کے لیے ایک بڑی برآمدی منڈی ہے، جو یورپی یونین کی مجموعی اسٹیل برآمدات کا 16 فیصد ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر امریکی پابندیاں برقرار رہیں تو یورپی یونین کو 3.7 ملین ٹن اسٹیل کی برآمدات سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے پہلے سے مشکلات کا شکار صنعت مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔جبکہ یورپی یونین نے سخت موقف اختیار کیا ہے، برطانیہ نے امریکی فیصلے کو "مایوس کن” قرار دیا لیکن جوابی محصولات عائد کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، یورپی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھے گی، تاکہ کسی تجارتی جنگ سے بچا جا سکے۔
