جنگ کے دوران ایران میں بے گناہ شہریوں کو شدید متاثر کیا، پوپ لیو

Pope Leo: Innocent civilians in Iran were severely affected during the war

ویٹیکن سٹی — Pope Leo XIV نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات کے تسلسل پر زور دیا ہے، خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازع نے ایران میں بے گناہ شہریوں کی ایک بڑی آبادی کو شدید متاثر کیا ہے۔

چار افریقی ممالک کے دورے کے بعد روم واپسی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو چہاردہم نے کہا کہ تمام فریقین کو مکالمے کا راستہ اپنانا چاہیے تاکہ جنگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو نفرت، تقسیم اور تصادم کے بجائے امن، برداشت اور باہمی احترام پر مبنی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

پوپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump کی جانب سے حال ہی میں ان پر تنقیدی بیان دیا گیا تھا، جبکہ پوپ ماضی میں بھی ایران میں امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

اپنی گفتگو میں پوپ نے ایک جذباتی واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ لبنان کے ایک مسلمان بچے کی تصویر رکھتے ہیں، جو گزشتہ سال ان کے دورے کے دوران “ویلکم پوپ لیو” کا پلے کارڈ اٹھائے نظر آیا تھا۔ پوپ کے مطابق حالیہ جنگی حالات میں وہ بچہ جاں بحق ہو چکا ہے، جو اس تنازع کے انسانی المیے کی ایک دردناک مثال ہے۔

پوپ لیو چہاردہم نے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی حصوں میں مہاجرین کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے جیسے وہ انسان ہی نہ ہوں، حالانکہ انہیں بھی بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔

انہوں نے امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی و سماجی بہتری کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ لوگوں کو ہجرت پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ ان کے مطابق ریاستوں کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے، مگر اصل مسئلہ ان بنیادی حالات کو بہتر بنانا ہے جو لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتے ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر پوپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر قسم کی ناانصافی، جنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، اور عالمی سطح پر امن، مکالمے اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے