روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کرسک میں تعینات یوکرینی فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمت بے سود ہے، کیونکہ روسی افواج اس علاقے میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واشنگٹن کا دورہ کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت سفارتی اور فوجی دباؤ بڑھائے۔
کرسک کے سرحدی علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں روس نے فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ کریملن کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے یوکرینی فوجیوں کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا، لیکن کیف روسی یقین دہانیوں پر شبہات کا اظہار کر رہا ہے۔
زیلنسکی کی امریکا سے مدد کی اپیل
یوکرینی صدر زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا ہے کہ روس کی بڑھتی جارحیت کے خلاف مزید فوجی امداد، اقتصادی پابندیاں اور سفارتی دباؤ بڑھایا جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یوکرین کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے امریکی مداخلت ناگزیر ہے۔
