عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے عراق اور شام میں سرگرم داعش کے سربراہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے، جسے دہشت گرد تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم کے جاری کردہ سرکاری بیان میں اس کامیاب آپریشن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو عراقی سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے انجام دیا۔ یہ کارروائی عراق کے دہشت گردی کے خلاف مستقل عزم اور خطے میں داعش کی موجودگی کمزور کرنے کی ایک اور کوشش کی عکاسی کرتی ہے۔
مقتول رہنما کی شناخت اور آپریشن کی تفصیلات
اگرچہ ہلاک ہونے والے داعش سربراہ کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ آپریشن ان کوششوں کا حصہ تھا جس میں داعش کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں عراق نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں تیزی لائی ہے اور علاقائی و بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سکیورٹی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
داعش کی کارروائیوں پر ممکنہ اثرات
حکام کا ماننا ہے کہ اس ہلاکت سے داعش کی آپریشنل صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچے گا اور اس کے اثر و رسوخ میں مزید کمی آئے گی۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گی تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
آپریشن کی مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں متوقع ہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے اس معاملے کا مزید جائزہ لے رہے ہیں۔
