تاجروں کا فاٹا اور پاٹا کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے اور خام مال کی امپورٹ ڈیوٹی صفر کرنے کا مطالبہ

0

ملک کے مختلف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے آئندہ مالی سال سے سابقہ قبائلی علاقہ جات فاٹا اور پاٹا کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے، خام مال کی درآمد پر ڈیوٹی صفر کرنے اور ٹیکس شرح میں کمی کا مطالبہ کر دیا۔۔ صنعتی تنظیموں کا ٹیکس ریفنڈ میں تاخیر پر بھی شدید تحفظات کا اظہار

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا

ملک بھر کے چیمبرز نے بجٹ تجاویز دیں۔ صدر کراچی چیمبر جاوید بلوانی نے کہا کہ فاٹا پاٹا میں کم ٹیکس پر درآمدی چائے افغانستان کے بجائے پاکستان میں فروخت ہو رہی ہے۔

انھوں نے سابقہ قبائلی علاقوں کو اسٹیل، گھی اور چائے پر دیئے جانے والے ٹیکس استثناء کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ فاٹا اور پاٹا کی ٹیکس مراعات اس سال ختم ہو جائیں گی۔

جاوید بلوانی نے کہا کہ ملکی برآمدات بڑھ رہی ہیں تاہم ایکسپورٹرز کا منافع کم ہو گیا ہے اسکی بنیادی وجہ مہنگی بجلی اور زیادہ شرح سود ہے ۔

انہوں نے کہا پیداواری لاگت زیادہ ہونے کے باعث ہماری مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔ ایف بی آر کا فاسٹر سسٹم 9 ماہ میں ریفنڈ کرتا ہے۔ ریفنڈز لینے کیلئے سفارش، ایف ٹی او یا کورٹ کا حکم چاہیے ہوتا ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ معاملہ فنانس بل کے موقع پر اٹھایا جائے گا۔ سینئر نائب صدر لاہور چیمبر خالد عثمان نے مطالبہ کیا کہ خام مال پر ڈیوٹی صفر کر دی جائے۔ صنعتی آلودگی میں کمی کیلئے حکومت مدد کرے ۔کمیٹی تجارتی اور صنعتی تنظیموں سے آئندہ ہفتے بجٹ تجاویز لے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.