حزب اللہ کی سرحدی پوزیشنز پر کاری ضرب: لبنانی فوج نے 90 فیصد سے زائد انفراسٹرکچر ختم کر دیا
لبنانی مسلح افواج (LAF) نے دریائے لیتانی کے جنوب میں حزب اللہ کے 90 فیصد سے زائد عسکری انفراسٹرکچر کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے، حکام کے مطابق یہ کارروائی اسرائیلی سرحد پر امن قائم رکھنے اور بین الاقوامی دباؤ کے جواب میں کی گئی۔
یہ پیشرفت لبنانی حکام اور امریکی سفارتی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں صدر جوزف عون، امریکی سفیر لیزا جانسن، اور دو اعلیٰ امریکی فوجی افسران شامل تھے۔
ان ملاقاتوں کا مقصد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی اور سرحدی تناؤ کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔
ایک انٹرویو میں صدر عون نے کہا”ہماری ترجیح ہے کہ بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں کو جمع کیا جائے، تاہم ہلکے ہتھیاروں پر بھی مرحلہ وار توجہ دی جائے گی۔”
عون نے مزید کہا کہ تخفیف اسلحہ کا دائرہ فلسطینی پناہ گزین کیمپوں اور دیگر غیر ریاستی گروہوں تک بھی بڑھایا جائے گا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔
سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیل پر جنوبی لبنان میں جارحیت کا الزام لگاتے ہوئے کہا "ریاست مکمل کنٹرول چاہتی ہے لیکن اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہے۔”
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر لبنانی ریاست کو کمزور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ قومی دفاعی پالیسی میں کسی غیر ملکی دباؤ کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ایہاب حمادیہ نے واضح کیا کہ مسلح گروہوں کے ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ ایک قومی حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ۔