امریکہ نے روس پر پابندیوں کا نیا پیکیج تیار کر لیا، ٹرمپ کی منظوری باقی
یوکرین تنازع کے حل کے لیے جاری بات چیت کے درمیان، امریکہ نے روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے پابندیوں کا ایک نیا پیکیج حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد توانائی، بینکنگ اور قدرتی وسائل جیسے اہم شعبوں کو نشانہ بنانا ہے۔
ممکنہ اہداف میں شامل میںریاستی زیر انتظام توانائی کمپنی Gazprom،روس کے بینکنگ اور مالیاتی ادارے اور قدرتی وسائل کی بڑی کمپنیز شامل ہیں
پابندیوں کا یہ نیا دور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کا منتظر ہے۔ٹرمپ نے 24 اپریل کو عندیہ دیا تھا کہ وہ ایک ہفتے کے اندر نئے اقدامات پر فیصلہ کریں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن نے سفارتی عمل متاثر ہونے سے بچانے کے لیے پابندیوں کو فی الحال روکا تھا۔نئی پابندیاں اگر نافذ ہوئیں تو وہ روس پر معاشی دباؤ میں شدید اضافہ کر سکتی ہیں، تاہم اس سے جاری مذاکرات کی نزاکت متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
مغربی طاقتیں روبل کی قدر اور روسی معیشت کو متاثر کرنے کے لیے مختلف معاشی و تزویراتی آپشنز پر غور کر رہی ہیںپابندیوں کا مقصد روس کو امن کی جانب پیش قدمی پر مجبور کرنا ہے، مگر ہر قدم سفارتی نازک توازن سے جُڑا ہوا ہے۔