روس-یوکرین امن مذاکرات میں قیدیوں کا تبادلہ، جنگ بندی پر ڈیڈلاک برقرار

0


تین سال کے بعد استنبول میں ہونے والے روس اور یوکرین کے براہ راست امن مذاکرات کسی بامعنی سیاسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، تاہم فریقین نے 1,000-1,000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا، جو اس تنازعے کے دوران اب تک کا سب سے بڑا تبادلہ ہے۔

جنگ بندی پر اتفاق نہ ہو سکا

  • یوکرین نے 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی،
  • لیکن روس نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
  • روس نے زور دیا کہ یوکرین کی غیرجانبداری اور نیٹو سے دستبرداری اولین شرط ہے۔

مذاکرات کی علامتی ترتیب:

ملاقات ڈولماباہس پیلس، استنبول میں ہوئی۔

  • روسی وفد سیاہ سوٹ میں موجود تھا
  • یوکرینی نمائندے فوجی وردی میں شریک ہوئے
  • اجلاس کی صدارت ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کی

ٹرمپ کا دباؤ، واشنگٹن کا کردار

یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر منعقد ہوئے، جنہوں نے بات چیت کے بعد اعلان کیا”میں جلد صدر پوتن سے ملاقات کروں گا، جیسے ہی وقت طے ہو جائے۔”

اس بیان نے یوکرین میں بے چینی پیدا کر دی، جہاں خدشہ ہے کہ مستقبل کے فیصلے زیلنسکی کی شرکت کے بغیر کیے جا سکتے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.